یاد کر کے اسے بھلا دینا

یاد کر کے اسے بھلا دینا
دل جلانا کبھی بجھا دینا

میں نے ہونا ہے مبتلا خود میں
اپنی آنکھوں کا آئینہ دینا

ہوش کی پالکی میں جاگتے ہیں
خواب میں تم مجھے سلا دینا

میرا آنچل سنبھالتے ہوئے تم
پھول زلفوں سے مت گرا دینا

میں تمہاری قبا کی خوشبو ہوں
تم ہواؤں میں مت اڑا دینا

مجھ کو شعلہ بنانے والے شخص
جب میں بجھنے لگوں ہوا دینا

دن کی رنگین قربتوں کے بعد
شامِ ہجراں کی مت ردا دینا

نمرہ علی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے