دل میں پھر غم کی

دل میں پھر غم کی نمو ہونے لگی
تن بدن میں ہا و ہو ہونے لگی

کون آیا ہے بہاروں سا یہاں
دل کی بستی مشکبو ہونے لگی

اسکی چشمِ نیم وا سے پھوٹ کر
چاندنی بھی سرخرو ہونے لگی

مسکرا کر دل دکھانا چھوڑ دو
آنکھ کو رونے کی خو ہونے لگی

عکس اسکا اڑ گیا دیوار سے
یاد کی تختی لہو ہونے لگی

نمرہ علی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا