تمہاری یاد کا ساون کہاں سے آتا ہے

تمہاری یاد کا ساون کہاں سے آتا ہے
یہ میری جان کا دشمن کہاں سے آتا ہے

شریک جام نہیں ہوں مگر یہ سوچتا ہوں
ترا بھرا ہوا برتن کہاں سے آتا ہے

یہ پائلیں تو مری طبع زاد ہیں لیکن
مرے کلام میں کنگن کہاں سے آتا ہے

فلک کو دیکھ رہا ہوں سوال کرتے ہوئے
ستارۂ رخ روشن کہاں سے آتا ہے

اکرام عارفی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی