میں پریشان ہوں نئے گھر سے

میں پریشان ہوں نئے گھر سے
سارے دروازے لگتے ہیں سر سے

قرطبہ تو بنا نہیں سکتا
دل بناتا ہوں سنگ مرمر سے

جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں
جو گرجتے تھے آج وہ برسے

مختصر یہ کہ خانماں برباد
بستروں میں قیام کو ترسے

میں نے طوطا بدل لیا اکرامؔ
سرمئی رنگ کے کبوتر سے

اکرام عارفی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی