شادماں شاد کام دل تو نہیں

شادماں شاد کام دل تو نہیں
آپ سے ہم کلام دل تو نہیں

تیری آنکھوں کا نام آنکھیں ہیں
تیری آنکھوں کا نام دل تو نہیں

اک دھما چوکڑی ہے سینے میں
یہ کہیں بے لگام دل تو نہیں

زندگی اور دل برابر ہیں
زندگی کا غلام دل تو نہیں

دل کوئی اور چیز ہے اکرامؔ
صرف دل ہی کا نام دل تو نہیں

اکرام عارفی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی