کوئی بیٹھا رہا شباب سمیت

کوئی بیٹھا رہا شباب سمیت
اور میں سو گیا کتاب سمیت

یہ کہا تھا ترا جواب نہیں
پھر کوئی آ گیا جواب سمیت

میں ترے خالی ہاتھ کے قربان
مجھ سے ملنا مگر گلاب سمیت

ملنے آیا ہے کوئی جان غزل
میرؔ صاحب کے انتخاب سمیت

نیند آتی ہے کروٹیں لے کر
رنج کے ساتھ اضطراب سمیت

ڈوب جانے میں کوئی حرج نہیں
ڈوبنا ہو اگر شراب سمیت

اکرام عارفی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے