گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے

گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے
دنیا چلتی ہے چند روٹیوں سے

دل میں آئے کوئی کھری عورت
یہ کنواں بھر گیا ہے کھوٹیوں سے

آپ کو خوف ہے نشیبوں کا
میں گرا ہوں بلند چوٹیوں سے

پیار عنقا ہے جب جہاں سے ملے
گوریوں کالیوں کلوٹیوں سے

آخری انجمن سجاؤں گا
نئے یاروں سے اور لنگوٹیوں سے

مہرباں سی دعا سلام اکرامؔ
بڑی بہنوں کی جیسے چھوٹیوں سے

اکرام عارفی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل