اگتے ہوئے نہ روند لگے مت خراب کر

اگتے ہوئے نہ روند لگے مت خراب کر
تو زرد ہے تو سب کے ہرے مت خراب کر

جو جس مقام پر ہے اسے بے سبب نہ چھیڑ
بکھرے ہوئے سمیٹ پڑے مت خراب کر

جو فطرتاً خراب ہیں ان کا تو حل نہیں
جو ٹھیک مل گئے ہیں تجھے مت خراب کر

بے لمس پھلتے پھولتے خود رو کو مت اکھیڑ
جو بات خود بخود ہی بنے مت خراب کر

تیرے خراب کردہ بہت ہیں دلِ خراب
اتنا بھلا تو کر کہ بھلے مت خراب کر

اب سلوٹوں سمیت پہن یا سمیٹ دے
تجھ سے کہا بھی تھا کہ مجھے مت خراب کر

بے لطف زندگی کی خرابی ہے سر بسر
واجب خرابیوں کے مزے مت خراب کر

اتنا نہ کر دراز خرابی کا سلسلہ
اک شے کو دوسری کے لیے مت خراب کر

وہ خود خراب کرنے پہ کرتا ہے مشتعل
جو روز بار بار کہے مت خراب کر

حمیدہ شاہین

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے