ہیں سردیاں پلٹنے کو اب تم بھی پلٹنے کا سوچو

ہیں سردیاں پلٹنے کو
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
تنہا گزرے کتنے موسم
تم لوٹے نہ میرے ھمدم
جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے
وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں
والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔
میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں
میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں
اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں
اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ
تم جلدی لوٹ کے آٶ نا
ہیں سردیاں پلٹنے کو
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو

طارق اقبال حاوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان