تیرا حسنؔ یہ رونا یونہی

تیرا حسنؔ یہ رونا یونہی اگر رہے گا
ظالم تو پھر کسی کا کاہے کو گھر رہے گا

تیرے ہی غم کا گھر ہے یہ دل جلا نہ اِس کو
گر یہ جلا تو تیرا پھر غم کدھر رہے گا

تربت پہ بے کسوں کی رکھیو نہ پھول کوئی
گُل کی جگہ اُنھوں کا داغِ جگر رہے گا

آنا ہے گر تو آ جا جلدی وگرنہ یہ دل
یونہی تڑپ تڑپ کر کوئی دم میں مر رہے گا

بُت خانہ ہی میں چل بیٹھ یا کعبہ میں حسنؔ اب
یوں کب تلک دوانے تو دربدر رہے گا

میر حسن 

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی