چھوٹا نہ واں تغافل

چھوٹا نہ واں تغافل اُس اپنے مہرباں کا
اور کام کر چکا یاں یہ اضطراب جاں کا

اُٹھتے ہی دل جگر میں کیا آگ سی لگا دی
خانہ خراب ہووے اس نالہ و فغاں کا

وے دن گئے جو گلشن تھا بود و باش اپنا
اب تو قفس میں بھولے نقشہ بھی گلستاں کا

سامان لے چلا ہے اندوہ کا یہیں سے
کیا جانیے ارادہ دل نے کیا کہاں کا

جانا تو ہم نے چھوڑا پر کیا کریں حسن ہاے
چھُٹتا نہیں ہے دل سے ہرگز خیال واں کا

میر حسن

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے