کروں شکوہ تو بے وسواس

کروں شکوہ تو بے وسواس میں اُس سے نہ آنے کا
نہ ہو دھڑکا مرے دل میں گر اُس کے روٹھ جانے کا

وساطت سے کسی کی چھپ کے بھی چاہا نہ کچھ ورنہ
کیا تھا ڈھب تو یاروں نے بہت اُس سے ملانے کا

ترے پہلو سے اُٹھ جانے کا جتنا ہے الم ہم کو
نہیں اتنا تو غم اپنے تئیں دل کے بھی جانے کا

مجھے آتا ہے رونا دیکھ کر زانو کو اب اپنے
کہ تھا اک وقت میں تکیہ کسی کے یہ سرہانے کا

رقیبِ رو سیہ کی بات پر مت گوش رکھیو تو
کیا ہے فکر اِس نے میرے اور تیرے لڑانے کا

(ق)
حسنؔ تو ہر کسی سے حالِ دل کہتا پھرے ہے کیوں
عبث بدنام ہو گا اور نہیں کچھ اِس میں پانے کا

ملامت ہی کریں گے اور اُلٹی تجھ کو ہنس ہنس کر
کوئی احوال پر تیرے نہیں افسوس کھانے کا

میر حسن

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے