روشنی پر کبھی بہاروں پر

روشنی پر کبھی بہاروں پر
نام لکھا ترا ستاروں پر

پانیوں میں وہ رقص کرتی تھی
آگ بہتی رہی کناروں پر

ابھی اترا ہی تھا جہاز کوئی
جم گٸ تھی نظر قطاروں پر

دل کی رمزیں نہيں سمجھ سکتے
جان دیتے ہیں جو ہزاروں پر

اس قدر تیز چلتا ہے لاہور
کوئی رُکتا نہیں اشاروں پر

بارشیں لاٸیں گی نیا موسم
تتلیاں بیٹھیں گی اناروں پر

آپ کے نام کا دیا بن کر
کوئی جلتا رہا مزاروں پر

تجدیدقیصر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی