نظریں ملیں تو پیار کا اظہار کر گیا

نظریں ملیں تو پیار کا اظہار کر گیا
بولا تو بات بات سے ا نکار کر گیا

آنکھوں نے خشت خشت چنی رات کی فصیل
خورشید صبح پھر ا سے مسمار کر گیا

جتنا اڑا ہوں اتنا فلک بھی ہوا بلند
کون اس قفس میں مجھ کو گرفتار کر گیا

بن بن کے پانیوں کے بھنور ٹوٹتے گئے
میں ڈوبتا ہوا بھی ندی پار کر گیا

ورنہ یہ بوجھ کون اٹھاتا تمام عمر
اچھا ہوا کہ پہلے وہی وار کر گیا

میں لفظ ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک بھی گیا عدؔیم
وہ پھول دے کے بات کا اظہار کر گیا

عدیم ہاشمی 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی