اس کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو

اس کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو
اس کی مرضی ہے تم اس پہ یہ فیصلہ چھوڑ دو

میں نے بس اتنا پوچھا تھا کیا دیکھتے ہو بھلا
میں نے یہ کب کہا تھا مجھے دیکھنا چھوڑ دو

تم ملو گے نہیں تو میں جیتے جی مر جاؤں گی
باخدا! ایسی خوش فہمیاں پالنا چھوڑ دو

میری آنکھوں پہ پٹی بندھی ہے؟ بندھی رہنے دو
اس کے بارے میں تم بھی برا سوچنا چھوڑ دو

گیلی مٹی کی خوشبو نہیں سونے دیتی مجھے
میرے بالوں میں تم انگلیاں پھیرنا چھوڑ دو

تجدیدقیصر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے