رات دن پر شور ساحل جیسا منظر مجھ میں تھا

رات دن پر شور ساحل جیسا منظر مجھ میں تھا

تم سے پہلے موجزن کوئی سمندر مجھ میں تھا

آج تیری یاد سے ٹکرا کے ٹکڑے ہو گیا

وہ جو صدیوں سے لڑھکتا ایک پتھر مجھ میں تھا

جیتے جی صحن مزار دوست تھا میرا وجود

اک شکستہ سا پیالہ اور کبوتر مجھ میں تھا

میں کہاں جاتا دکھانے اپنے اندر کا کمال

جو کبھی مجھ پر نہ کھل پایا وہ جوہر مجھ میں تھا

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اس کو رات دن خود میں حسنؔ

وہ جو کل تک مجھ سے بھی اک شخص بہتر مجھ میں تھا

حسن عباسی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے