عاشقی بے دلی سے مشکل ہے

عاشقی بے دلی سے مشکل ہے
پھر محبت اسی سے مشکل ہے

عشق آغاز ہی سے مشکل ہے
صبر کرنا ابھی سے مشکل ہے

ہم کو آساں ہیں اور ہمارے لیے
دشمنی دوستی سے مشکل ہے

جس کو سب بے وفا سمجھتے ہوں
بے وفائی اسی سے مشکل ہے

ایک کو دوسرے سے سہل نہ جان
ہر کوئی ہر کسی سے مشکل ہے

تو بضد ہے تو جا فراز مگر
واپسی اس گلی سے مشکل ہے

احمد فراز

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی