پرانے وقت کی پرچھائی دیکھ لی میں نے

پرانے وقت کی پرچھائی دیکھ لی میں نے
وہی گلی وہی رسوائی دیکھ لی میں نے

میں ڈر رہی تھی سمندر سے اور پھر ایک دن
خود اپنے زخم کی گہرائی دیکھ لی میں نے

اک اور آدمی پھرنے لگا ہے گھر میں مرے
نجانے کونسی تنہائی دیکھ لی میں نے

اسی لیے تو ہزاروں ہیں کرچیاں میری
وجودِ ذات کی یکتائی دیکھ لی میں نے

بُھلا دیے ہیں سبھی طول و عرض دانستہ
فنا کی قبر کی لمبائی دیکھ لی میں نے

بشریٰ شہزادی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا