وجود چاٹنے لگتا ہے جب دکھن سے مجھے
سمیٹ لیتا ہے صبر اپنے پیراہن سے مجھے
پتہ چلا کہ جب اس نے نشانہ باندھ لیا
مشابہ کس لیے دیتا تھا وہ ہرن سے مجھے
کہ میرے واسطے آسیب ہوگی وہ عورت
ہزار مسئلے ہوں گے تری دلہن سے مجھے
یہ پوچھنا کبھی جو آئنے سے بات کرو
یہی کہ دیکھتا رہتا ہے کیوں تھکن سے مجھے
تمہاری موت مری زندگی سے بہتر ہے
تمھیں لپیٹا ہے پرچم سے اور کفن سے مجھے
وسیع ہوتا چلا جا رہا ہے میرا خلا
یہ کون بھرنے لگا اپنے خالی پن سے مجھے
میں عمر بھر کے لیے جس سے ہو گئی محروم
سمیٹنی تھی وہ راحت ترے بدن سے مجھے
پکارتی ہیں وہ آنکھیں اب آسماں سے ادھر
بلاوا آگیا آخر مرے وطن سے مجھے
بچا تھا ایک ہی آنسو سو وہ بھی خرچ ہوا
دوبارہ کون نکالے گا اس گھٹن سے مجھے
بشریٰ شہزادی