یہ آگہی کی مسافت یہ ہاؤ ہو کی تھکن
ترے حضور خدایا یہ جستجو کی تھکن
کہیں ملے گا تو بے ساختہ گلے لگ کر
اتار دیں گے سمندر میں آب جو کی تھکن
سمیٹ پائیں گی بانہیں وجودِ حرص و ہوس
کہاں سہارے گی منزل بھی رنگ و بو کی تھکن
بلیک ہول بنے ہیں تمھارے ہجر میں ہم
سمٹتی آتی ہے ہم میں چہار سو کی تھکن
میں تیرے ہجر سے شرمندہ ہوں کہ اب مجھ میں
بھری ہوئی ہے کسی اور آرزو کی تھکن
کبھی تُو لوٹ کے آجا سمیٹنے کے لئے
جہاں میں پھیلی ہوئی اپنے بے نمو کی تھکن
ہمیں ہماری اداسی ملی تھی راہ چلتے
ہم اس پہ لاد کے لے آئے گفتگو کی تھکن
بشریٰ شہزادی