دل میں ہماری یاد کو ٹھہراؤ دیکھ کر

دل میں ہماری یاد کو ٹھہراؤ دیکھ کر
پوشاک اپنے زخم کو پہناؤ دیکھ کر

یوں بھی بھلی ہے پر مرے معبود اگلی بار
تم کہکشاں بنانا مرے گھاؤ دیکھ کر

یہ خامشی بھی درد کی آواز کب بنی
چیخوں سے سارے لوگوں کا برتاؤ دیکھ کر

بیری نہیں تھی جو کسی پھل کو اچھالتی
کرنا تھا مجھ فصیل پہ پتھراؤ دیکھ کر

مرنے لگے تھے ساتھ میں تم دیکھ کر ہمیں
ہم اب بھی ایک ساتھ ہیں مر جاؤ دیکھ کر

بشریٰ شہزادی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی