نکلے تھے کسی مکان سے ہم

نکلے تھے کسی مکان سے ہم
روٹھے رہے اک جہان سے ہم

بدنامیاں دل سے آنکھ تک تھیں
رسوا نہ ہوئے زبان سے ہم

ہے تنگ جہانِ بود و نابود
اترے ہیں کسی آسمان سے ہم

پھولوں میں بکھر گئے تھے رستے
گزرے نہیں درمیان سے ہم

جو شان تھی ملتے وقت مشتاق
بچھڑے اسی آن بان سے ہم

احمد مشتاق

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا