دل میں شور برابر ہے

دل میں شور برابر ہے
کون اس گھر کے اندر ہے

عشق میں کوئی وقت نہیں
دن اور رات برابر ہے

دل پر کوئ بوجھ نہیں
یعنی آپ ہی پتھر ہے

باہر خوب ہنسو، بولو
رونے دھونے کو گھر ہے

دکھ کی مسلیں چار طرف
دل بھی میرا دفتر ہے

ترکِ عشق سے جی کا حال
پہلے سے کچھ بہتر ہے

ختم ہوا سب کاروبار
یادیں ہیں اور بستر ہے

تم ہو شاد نہ میں غمگیں
یہ موسم کا چکر ہے

ساحل سے پوچھو مشتاق
کتنی دور سمندر ہے

احمد مشتاق

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے