ملنے کے آرہے ہیں اب لوٹ کر زمانے

ملنے کے آرہے ہیں اب لوٹ کر زمانے
پھر سے تراش لو تم سندر سے کچھ بہانے

چہرہ چھپا کے تم نے یوں ہی کیا تکلف
آنکھیں سنا رہی ہیں سب حسن کے افسانے

چھوڑو مجھے ہاں جاؤ دو مشورہ بھی لیکن
اس کا کروں میں کیا یہ جو دل دیا خدا نے

اب تک کی زندگی کا اتنا ہے کل اثاثہ
کچھ درد کی سوغاتیں کچھ خواب ہیں پرانے

پہلے ہی کر چکا تھا ایک جھوٹ پر یقین ہو
ویسے تو میں گیا تھا جو سچ تھا وہ بتانے

مجھ کو خبر نہیں اب اپنے بھی آشیاں کی
دل میں چلا تھا اس کے بستی الگ بسانے

دل سے ترے جو نکلا آنکھوں میں جا چھپوں گا
میرے اویس تجھ میں صد ہیں بنے ٹھکانے

اویس خالد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے