مسائل پر تحمل سے نہ گر یوں

مسائل پر تحمل سے نہ گر یوں گفتگو ہوگی
تماشا لوگ دیکھیں گے ہزیمت چار سو ہوگی

ہزاروں مان توڑے ہیں اجاڑے کیوں ہیں دل اتنے
محبت سے میں پوچھوں گا کبھی جو دوبدو ہوگی

ہزاروں نیکیوں سے بھی نہ ہوگی ختم گمنامی
گنہ گر ایک کر بیٹھو تو شہرت کو بہ کو ہوگی

مری باتیں اتر کر جو جگہ دل میں بناتی ہیں
مرے اور آپ کے دل کی کہانی ہوبہو ہوگی

بنا خود کو سمندر تو فقط ہو جا گر اعلی ظرف
ندی بن کر ترے پیچھے یہ دنیا جو بہ جو ہوگی

فقط اک گل محبت کا کھلا کے دیکھ گلشن میں
سدا پھر تیرے آنگن میں مہکتی رنگ و بو ہوگی

جہاں ہو تذکرہ تیرا مرا ایمان کہتا ہے
فضا اس پاک محفل کی یقینا باوضو ہوگی

اویس خالد

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل