سائل کو اس وجہ سے میسر نہیں ہے

سائل کو اس وجہ سے میسر نہیں ہے عدل
منصف کے دل میں وقت کے حاکم کا خوف ہے

کس کو خبر کہ دل میں ہوس کب چمک اٹھے
مالک کو اپنے گھر کے ہی خادم کا خوف ہے

پوچھا کہ چپ ہو کیوں تو یہ کہنے لگا گواہ
دیکھا ہے ظلم آنکھ سے ظالم کا خوف ہے

سچ میں ملا کے جھوٹ نہ وہ نسل نو کو دے
تاریخ کے اوراق کو راقم کا خوف ہے

ابلیس ترے نرغے سے بچتا بھلا ہے کون
کہنے لگا کہ بندہء نادم کا خوف ہے

سولی نے چوما حلق تو حلاج نے کہا
مجھ کو مدعئ عقل کے عالم کا خوف ہے

اویس خالد

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی