ہزاروں راز پنہاں ہیں شعور خاک کے اندر

ہزاروں راز پنہاں ہیں شعور خاک کے اندر
زمانے دفن ہیں رمز تہہ بےباک کے اندر

ڈھکے چہروں سے حرمت کے لبادے ہٹ گئے لیکن
ابھی باقی ہیں گنجینے کف ادراک کے اندر

نہیں یہ فکر پستی میں کہاں تک گر گیا ہے خود
جسے دیکھو ہے دوجے کی وہ کھوج و تاک کے اندر

کہیں پر جسم بے بس ہے تلاشی ستر پوشی میں
کہیں انسان نہیں ہوتے حسیں پوشاک کے اندر

پڑے آغوش خاکی میں گوہر دھیرے سے چمکے ہے
غرور بے بہا ہے تو خس و خاشاک کے اندر

اویس خالد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان