انساں کی اپنے واسطے تنظیم ہے غلط

انساں کی اپنے واسطے تنظیم ہے غلط
باطل ہے وہ جو یہ کہے تقویم ہے غلط

کیسے کریں امید کے ہو ان میں دیدہ ور
اس نسل نو کے ہاتھ جب تعلیم ہے غلط

لازم ہے کرنا ویسے تو سب کا ہی احترام
دولت کے بل پہ جھوٹ کی تعظیم ہے غلط

رات کردو اپنے ضابطےہے تم کو اختیار
قدرت کے بس اصول میں ترمیم ہے غلط

ہے سب سے بڑھ کے یہ سبب اختلاف کا
اک دوسرے کی بات کی تفہیم ہے غلط

اویس خالد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے