مانا کسی ظالم کی حمایت نہیں کرتے

مانا کسی ظالم کی حمایت نہیں کرتے

ہم لوگ مگر کھل کے بغاوت نہیں کرتے

کرتے ہیں مسلسل مرے ایمان پہ تنقید

خود اپنے عقیدوں کی وضاحت نہیں کرتے

کچھ وہ بھی طبیعت کا سکھی ایسا نہیں ہے

کچھ ہم بھی محبت میں قناعت نہیں کرتے

جو زخم دیے آپ نے محفوظ ہیں اب تک

عادت ہے امانت میں خیانت نہیں کرتے

کیوں ان کو ملا منصب افزائش گیتی

یہ لوگ تو مٹی سے محبت نہیں کرتے

کچھ ایسی بغاوت ہے طبیعت میں ہماری

جس بات کی ہوتی ہے اجازت نہیں کرتے

تنظیم کا یہ حال ہے اس شہر میں عاصمؔ

بے ساختہ بچے بھی شرارت نہیں کرتے

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے