تم بھٹک جاؤ تو کچھ ذوق سفر آ جائے گا

تم بھٹک جاؤ تو کچھ ذوق سفر آ جائے گا

مختلف رستوں پہ چلنے کا ہنر آ جائے گا

میں خلا میں دیکھتا رہتا ہوں اس امید پر

ایک دن مجھ کو اچانک تو نظر آ جائے گا

تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے تنہا جاؤ تم

بات پوری بھی نہ ہوگی اور گھر آ جائے گا

یہ مکاں گرتا ہوا جب چھوڑ جائیں گے مکیں

اک پرندہ بیٹھنے دیوار پر آ جائے گا

کوئی میری مخبری کرتا رہے گا اور پھر

جرم کی تفتیش کرنے بے خبر آ جائے گا

ہو گیا مٹی اگر میرا پسینہ سوکھ کر

دیکھنا میرے درختوں پر ثمر آ جائے گا

بندگی میں عشق سی دیوانگی پیدا کرو

ایک دم عاصمؔ دعاؤں میں اثر آ جائے گا

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا