کس نے دیکھا ہے غم کا آئنہ

کس نے دیکھا ہے غم کا آئنہ
ایک پردہ اٹھا تھا پہلے بھی

منزل دل کی جستجو معلوم
دور اک قافلہ تھا پہلے بھی

کس نے دیکھا ہے غم کا آئنہ
دل تماشا بنا تھا پہلے بھی

یہی رنگ چمن کی باتیں تھیں
یہی شور صبا تھا پہلے بھی

پھول مہکے تھے رند بہکے تھے
جشن برپا ہوا تھا پہلے بھی

زیست کے ان فسانہ خوانوں سے
اک فسانہ سنا تھا پہلے بھی

کسی در پر جھکے نہ ہم باقیؔ
اپنا رستہ جدا تھا پہلے

باقی صدیقی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا