دل قتیل ادا تھا پہلے بھی

دل قتیل ادا تھا پہلے بھی
کوئی ہم سے خفا تھا پہلے بھی

ہم تو ہر دور کے مسافر ہیں
ظلم ہم پر روا تھا پہلے بھی

دل کے صحراؤں کو بسائے کوئی
شہر تو اک بسا تھا پہلے بھی

وقت کا کوئی اعتبار نہیں
ہم نے تم سے کہا تھا پہلے بھی

ہر سہارا پہاڑ کی صورت
اپنے سر پر گرا تھا پہلے بھی

دل کو باتوں سے ناپتے ہیں لوگ
ذکر اپنا چلا تھا پہلے بھی

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے