دل سے باہر ہیں خریدار ابھی

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
سامنے ہے بھرا بازار ابھی

آدمی ساتھ نہیں دے سکتا
تیز ہے سائے کی رفتار ابھی

یہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوار
ہے ترا شہر پُراسرار ابھی

دل کو یوں تھام رکھا ہے جیسے
بیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی

آنچ آتی ہے صبا سے باقیؔ
کیا کوئی گل ہے شرر بار ابھی

باقی صدیقی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل