فاصلہ دل کا مختصر ہے ابھی

فاصلہ دل کا مختصر ہے ابھی
فیصلہ اک نگاہ پر ہے ابھی

چاند شب کے گلے میں اٹکا ہے
دور ہنگامہ سحر ہے ابھی

سائے قدموں کو روک لیتے ہیں
اک دیوار ہر شجر ہے ابھی

گھر کے اندر نظر نہیں جاتی
راہ میں حسن بام و در ہے ابھی

راستے گونجتے ہیں دل کی طرح
ایک آواز ہم سفر ہے ابھی

راہ بھی گرد، منزلیں بھی گرد
ہر قدم اک نئی خبر ہے ابھی

کچھ تعلق صبا سے ہے باقیؔ
دل کے دامن میں اک شرر ہے ابھی

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے