کنارے پر کوئی آیا تھا

کنارے پر کوئی آیا تھا جس کا خالی بجرا ڈولتا رہتا ہے پانی پر

کوئی اترا تھا بجرے سے

وہ مانجھی ہوگا جس کے پاؤں کے مدھم نشاں اب تک دکھائی دے رہے ہیں گیلے ساحل پر

گیا تھا کہکشاں کے پار یہ کہہ کر

ابھی آتا ہوں ٹھہرو اس کنارے پر ذرا میں دیکھ لوں کیا ہے

یہ بجرا ڈولتا رہتا ہے اس ٹھہرے ہوئے دریا کے پانی پر

وہ لوٹے گا یا میں جاؤں

مجھے اس پار جانا ہے

 

گلزار

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے