خود کشی

خود کشی

بس اک لمحہ کا جھگڑا تھا

در و دیوار پر ایسے چھناکے سے گری آواز جیسے کانچ گرتا ہے

ہر اک شے میں گئیں اڑتی ہوئی، جلتی ہوئی کرچیں

نظر میں، بات میں، لہجے میں، سوچ اور سانس کے اندر

لہو ہونا تھا اک رشتے کا سو وہ ہو گیا اس دن!!

اسی آواز کے ٹکڑے اٹھا کے فرش سے اس شب

کسی نے کاٹ لیں نبضیں

نہ کی آواز تک کچھ بھی

کہ کوئی جاگ نہ جائے

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے