خوشبو سے وادیوں کو مہک جانا چاہیے

خوشبو سے وادیوں کو مہک جانا چاہیے
اس رہ گزر پہ دور تلک جانا چاہیے

اچھی نہیں یہ بات مرے دوستو سنو
،لیکن کبھی کبھار بہک جانا چاہیے ،

اس حسن بے مثال کی اب دیکھ کر جھلک
تاریکیوں کو خود ہی چمک جانا چاہیے

تھا جس کا انتظار وہ محفل میں آ گیا
ہاتھوں سے اب تو جام چھلک جانا چاہیے

اتری ہے آج چاندنی دھرتی پہ اے نسیم
تاروں سے آسماں کو دمک جانا چاہیے

نسیم شاہانہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے