نہ زمیں پر نہ آسمان میں ہے

نہ زمیں پر نہ آسمان میں ہے
اک پرندہ کہ جو اڑان میں ہے

میں کہ اس سے جدا نہیں ہوں گا
وہ ابھی تک اسی گمان میں ہے

تیری چاہت کا ہے اثر مجھ میں
جان اب تک جو میری جان میں ہے

چارہ گر خود کو وہ سمجھتا ہے
زہر اس شخص کی زبان میں ہے

اور کیا اس میں ہے مرے ہمدم
راکھ ہی راکھ خاک دان میں ہے

جو حقائق کی بات کرتا تھا
آج وہ بھی کسی گمان میں ہے

ہے تعاقب میں جو نسیم ترے
تیر ایسا کسی کمان میں ہے۔

نسیم شاہانہ

Related posts

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا