اس پار دیکھنا کبھی اس پار دیکھنا

اس پار دیکھنا کبھی اس پار دیکھنا
اچھا لگا ہمیں اسے ہر بار دیکھنا

آئے جو کوئی غم تو پرکھنا انہیں ضرور
کتنے ہیں تیرے شہر میں غمخوار دیکھنا

نکلے تری تلاش میں دنیائے دشت میں
آیا نہ راس جب پسِ دیوار دیکھنا

تیرے بغیر کام ہے اپنا تو بس یہی
در دیکھنا کبھی، کبھی دیوار دیکھنا

دولت کو دیکھتے ہیں سبھی لوگ اے نسیم
دولت نہ دیکھنا کبھی، کردار دیکھنا

نسیم شاہانہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے