مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں

مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں
خواب انسان کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں

ہاتھ آسانی سے آ جائیں تو دنیا والے
چاند تاروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہیں

میں نے بچوں کی طرح لاڈ اٹھائے اس کے
خیر بچے بھی کہاں سارے صلہ دیتے ہیں ۔

چھوڑ سکتے ہیں نہ اب انکو نبھانا ممکن
کچھ تعلق ہمیں بیمار بنا دیتے ہیں

اپنے رستوں کی سہولت کیلئے پیڑ تو کیا ؟
لوگ تعمیر ھوئے گھر بھی گرا دیتے ہیں

مار دیتے ہیں یہ تنہائ کے لمحات ہمیں
ورنہ خود دار کہاں مڑ کے صدا دیتے ہیں

فوزیہ شیخ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی