مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں
خواب انسان کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں
ہاتھ آسانی سے آ جائیں تو دنیا والے
چاند تاروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہیں
میں نے بچوں کی طرح لاڈ اٹھائے اس کے
خیر بچے بھی کہاں سارے صلہ دیتے ہیں ۔
چھوڑ سکتے ہیں نہ اب انکو نبھانا ممکن
کچھ تعلق ہمیں بیمار بنا دیتے ہیں
اپنے رستوں کی سہولت کیلئے پیڑ تو کیا ؟
لوگ تعمیر ھوئے گھر بھی گرا دیتے ہیں
مار دیتے ہیں یہ تنہائ کے لمحات ہمیں
ورنہ خود دار کہاں مڑ کے صدا دیتے ہیں
فوزیہ شیخ