اک حسیں دشت میں پر نور نظارہ دیکھا

اک حسیں دشت میں پر نور نظارہ دیکھا
ہم نے افلاک پہ خوش بخت ستارا دیکھا

ہیں بہت اعلی و ارفع بھی ملائک لیکن
سایہ ہم نے یہاں انسان کا اونچا دیکھا

جن کو ہوتا ہے بہت شوق بلندی کا انہیں
شوق پرواز ہمالہ پہ ہے رسوا دیکھا

جا کوئی کر لے تدارک مرے وجدان نے تو
ایک ہنگامہ تری بزم میں برپا دیکھا

اور تو کچھ نہ ملا تیرے عناصر سے مجھے
اک ترا دل ہی تو ہمدوش ثریا دیکھا

ڈوب جاتے ہیں کناروں پہ شناور سیمیں
میری آنکھوں نے تو اکثر یہ تماشا دیکھا

نسیم شاہانہ

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں