کچھ اس لیے مجھے لٹنے کا

کچھ اس لیے مجھے لٹنے کا ڈر زیادہ ہے
ذرا سی ہے مری دیوار در زیادہ ہے

یہ راستہ تو مرا ساتھ دے نہیں سکتا
میں جانتا ہوں کہ میرا سفر زیادہ ہے

عجب علاج کیا ہے مرے مسیحا نے
مرے مرض سے دوا کا اثر زیادہ ہے

میں بولتا تھا کہ مجھ کو نہیں تھا کچھ معلوم
میں چپ ہوا ہوں کہ مجھ کو خبر زیادہ ہے

میں دیکھنے کی حدوں سے نکل کے دیکھتا ہوں
مری نگاہ سے میری نظر زیادہ ہے

میں رکھ سکا نہ توازن اڑان میں قائم
مرے پروں میں کہیں ایک پر زیادہ ہے

خدا کرے کہ ہمیشہ مجھے گمان رہے
کہ میرے پاس ضرورت سے زر زیادہ ہے

مرے وطن کا یہی مسئلہ رہا عاصمؔ
یہاں دماغ ہے کم اور سر زیادہ ہے

ڈاکٹر عاصم واسطی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے