کیا کیا دئے فریب ہر اک اعتبار نے

کیا دئے فریب ہر اک اعتبار نے
اپنا بنا دیا ہے ترے انتظار نے

کیا جانے کتنے اہل طریقت کو آج تک
گمراہ کر دیا ہے ترے رہ گزار نے

کچھ ان کی جستجو ہے نہ کچھ اپنی گفتگو
یہ کیا بنا دیا ستم روزگار نے

ہاں اے نگاہ گرم نہ کر مختصر حیات
ہم کو ہزار بوجھ ابھی ہیں اتارنے

الجھے ہوئے ہیں گیسوئے جاناں میں آج تک
عالیؔ چلے تھے کاکل گیتی سنوارنے

جمیل الدین عالی​

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے