کب سے مِلا رہے ہیں نگاہیں جناب سے

کب سے مِلا رہے ہیں نگاہیں جناب سے
فرصت کہاں ہے آپ کو اپنے شباب سے

روزِ جزا بھی ہم نے اُٹھانا ہے بارِ زیست
کیوں کر ہوں لا جواب تمہارے حساب سے

پھر اس کے بعد کیا ہوا اس کی خبر نہیں
اس نے ہٹائے ہاتھ جو اپنے نقاب سے

پھرتا تھا کل رقیب ترے گھر کے آس پاس
اٹھتے ہیں سو سوال ترے اک جواب سے

ہم نے بھلا دیا تھا کوئ راز آپ کا
اِک پھول سا مِلا ہے حوالہ کتاب سے

 

حافظؔ زین العٰابدین

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے