بھروسہ دوستی سب نام کے ہیں

بھروسہ دوستی سب نام کے ہیں
اجی یہ لفظ اب کس کام کے ہیں

سمجھنا زندگی کو کتنا مشکل
جو دن باقی بچے آرام کے ہیں

یہی تکتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے
مقدر میں سبھی غم شام کے ہیں

نہ ہوتی مہ کشی گر تُو نہ ہوتا
یہ جتنے کام ہیں اس جام کے ہیں

کچھ ایسے جرم ہم سے ہو گئے ہیں
کہ ہم زندہ تو ہیں پر نام کے ہیں

 

حافظؔ زین العٰابدین

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی