سر پٹکنے کو کوئ در نہ دریچہ پایا

سر پٹکنے کو کوئ در نہ دریچہ پایا
جب کھلی آنکھ تو ہر سَمت ہی صحرا پایا

کاتبِ درد ترے ہاتھ میں ایسا کیا ہے
رخصتِ جاں ہوا جس شخص کو اپنا پایا

چارہ سازوں سے کوئ بات نہ بننے پائ
زخم سینچا تو اُسی زخم کو تازہ پایا

اشک رکنے سے غمِ جاں کا مداوا نہ ہوا
ہوش آیا تو مقابل تہہ دریا پایا

جان چھوٹے گی کسی بات سے دیوانے کی
اُس نے کل شام کسی شیخ کو رسوا پایا

 

حافظؔ زین العٰابدین

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان