ساری کڑیاں مِلا کے بیٹھے ہیں

ساری کڑیاں مِلا کے بیٹھے ہیں
ہم خسارے سجا کے بیٹھے ہیں

کون آئے گا فاتحہ پڑھنے
یونہی شمع جلا کے بیٹھے ہیں

بے وفاؤں کا داخلہ ہے منع
دل پہ پہرے خدا کے بیٹھے ہیں

چیر کے دیکھ لو جگر چاہے
نقش تیرا بنا کے بیٹھے ہیں

تم ملے ہو گلے ابھی جن سے
آستینیں چڑھا کے بیٹھے ہیں

 

حافظؔ زین العٰابدین

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان