حال دل کا تمہیں سنائیں کیا

حال دل کا تمہیں سنائیں کیا
بے خبر ہو تو مسکرائیں کیا

سَر ٹکایا ہے تم نے شانے پر
تھک گئے ہو تمہیں سلائیں کیا

دل پڑا ہے زمین پر اپنا
راکھ سی ہے اسے اٹھائیں کیا

آتشِ جاں میں جل گئے ارماں
کچھ بچا نہ اِسے بجھائیں کیا

ایک ہی شخص کو دلِ ناداں
دوسری بار آزمائیں کیا

 

حافظؔ زین العٰابدین

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل