دن گزارا ہے ترے ساتھ قیامت کی طرح

دن گزارا ہے ترے ساتھ قیامت کی طرح
رات رکھ دو مرے قدموں میں عبادت کی طرح

میں بھی کیا شخص ہوں پھرتا ہوں تری گلیوں میں
منھ چھپائے ہوئے برسوں کی ملامت کی طرح

میں اکیلا نہیں راتوں کے سَروں پر خطرہ
چاند نکلا ہے مرے ساتھ حمایت کی طرح

جب سے اُس سر پہ محبت کی ہُما بیٹھی ہے
راج کرتا ہے مرے دل پہ حکومت کی طرح

رنگ ڈالی ہے لہُو سے تری چادر میں نے
آ گری تھی مری چھت پر وہ شکایت کی طرح

ہاتھ لگنے سے تُو میلا نہ کہیں ہو جائے
پاس رکھوں گا تجھے اپنی امانت کی طرح

 

حافظؔ زین العٰابدین

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان