جو رہ گئے ہیں وہ سارے نقاب اُتریں گے

جو رہ گئے ہیں وہ سارے نقاب اُتریں گے
اور اُن کے ساتھ حیا اور حجاب اُتریں گے

مجھے پتا ہے کوئ معجزہ نہیں ہو گا
نہ میری آنکھ لگے گی نہ خواب اُتریں گے

کہاں سے ڈھونڈ کے لاتے سکون کی گھڑیاں
جب آسمان سے ہر سُو عذاب اُتریں گے

جو سوچنا بھی نہیں تھا وہ دیکھتے ہیں ابھی
نجانے کب یہ نظر کے سَراب اُتریں گے

طلوعِ سحر اُداسی ہے تیری آنکھوں میں
جھکا نظر کہ ترے آفتاب اُتریں گے

 

حافظؔ زین العٰابدین

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان